ابنا: منگل کو پوتن نے کہا کہ اس منصوبے پر صرف اسی صورت میں عمل در آمد کرایا جا سکتا ہے کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادی طاقت کے استعمال کی بات کرنا بند کر دیں۔پوتن نے ماسکو سے باہر اپنی رہائش گاہ سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ یکطرفہ بنیاد پر شام یا کسی بھی ملک کو غیر مسلح کرنا بہت مشکل امر ہے خاص طور سے کہ جب اس کے خلاف حملے کی تیاری کی جارہی ہو۔روسی صدر نے کہا کہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ شام کے پاس خاص کیمیائی ہتھیار ہیں کہ جنہیں اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔واضح ہو کہ شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے روس کے دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ شام نے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دینے کی روس کی تجویز منظور کر لی ہے۔......./169
10 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461873
روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ دمشق کو ماسکو کی تجویز پر عمل درآمد کا موقع فراہم کرنے کے لیے امریکہ کو اس عرب ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن رد کرنا ہوگا۔